کراچی (رفیق مانگٹ) بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ تباہ کیا جا رہا ہے، ایران جنگ کے پس منظر میں چین نشانہ ہے،جنگ میں بڑے اقتصادی اور جغرافیائی مفادات کار فرما ، تنازع امریکا اور اسرائیل تک محدود نہیں چین کو براہ راست متاثر کر رہا ہے، بیجنگ کیلئے مزید خاموش رہنا ممکن نہیں تنازع میں شامل ہو سکتا ہے،عالمی تجارت اور طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔عالمی تجارت جلد بحال نہ ہوئی توجون تک عالمی کساد بازاری، اگست تک عالمی معاشی بحران کا خطرہ موجود۔امریکی خارجہ و عسکری پالیسی کے تجربہ کار مبصر کرنل لارنس ولکرسن نے ایران کے خلاف جاری جنگ کو ایک وسیع جیو اسٹریٹجک تصادم قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ تنازع محض امریکہ اور اسرائیل تک محدود نہیں بلکہ چین جیسے عالمی طاقتور فریق کو بھی براہِ راست متاثر کر رہا ہے۔ ٹکر کارلسن کے ساتھ انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ چین کی بیلٹ اینڈ روڈ حکمت عملی، خصوصاً ایران سے گزرنے والا ریلوے نیٹ ورک، اس جنگ کا ایک اہم مگر پوشیدہ ہدف بن چکا ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں عالمی تجارت، مالیاتی نظام، اور طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ولکرسن کے مطابق چین اس جنگ میں اپنی مرضی سے شامل نہیں بلکہ اسے حالات نے مجبور کیا ہے، کیونکہ اسے اس نوعیت کی جنگ کی پیشگی توقع نہیں تھی۔ تاہم اب جب اس کے اسٹریٹجک انفراسٹرکچرخصوصاً ایران کے راستے یورپ تک جانے والی ریلوے لائن کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، تو بیجنگ کے لیے خاموش رہنا ممکن نہیں رہا۔ وہ اسے نہ صرف معاشی بلکہ جیو اسٹریٹجک خطرہ سمجھتا ہے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکہ اور اسرائیل حالیہ عرصے میں اس اہم ریلوے کو باقاعدہ ہدف بنا رہے ہیں، جو چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا مرکزی حصہ ہے۔ اگرچہ ریلوے کو مکمل تباہ کرنا مشکل ہوتا ہے، مگر یہ حملے واضح پیغام دیتے ہیں کہ اس جنگ کے پسِ منظر میں بڑے اقتصادی اور جغرافیائی مفادات کارفرما ہیں، جن سے عام دنیا حتیٰ کہ بعض اعلیٰ سیاسی قیادت بھی مکمل طور پر آگاہ نہیں۔ولکرسن نے اس پیش رفت کو عالمی تجارت کے ڈھانچے میں ممکنہ انقلاب قرار دیا، جہاں چین زمینی راستوں کے ذریعے سمندری تجارت کو پیچھے چھوڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق اس نئے ماڈل کے تحت چین اپنی مصنوعات محض چند گھنٹوں میں یورپ تک پہنچا سکتا ہے، جس سے نہر سویز، آبنائے ہرمز اور دیگر اہم بحری راستوں کی اہمیت کم ہو سکتی ہے اور امریکہ کی بحری طاقت کو براہِ راست چیلنج درپیش ہو سکتا ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ ان حملوں کا مقصد صرف انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ چین کو یہ پیغام دینا بھی ہے کہ امریکہ اس کی اسٹریٹجک پیش قدمی کو روکنے کے لیے تیار ہے۔
بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ تباہ کیا جارہا ہے، ایران جنگ کے پس منظر میں چین نشانہ ہے، سابق امریکی کرنل و دفاعی مبصر