ٹرمپ پر قاتلانہ حملے اور سیکیورٹی خطرات، کب کیا کیا ہوا؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک بار پھر قاتلانہ حملے کا سامنا کرنا پڑا ہے، جب وائٹ ہاؤس کورسپونڈنٹس ڈنر میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار بھی قاتلانہ حملے میں بچ نکلے، وہ اس سے قبل حملوں میں بھی محفوظ رہے تھے۔

گزشتہ روز واشنگٹن ڈی سی کے ہلٹن ہوٹل میں وائٹ ہاؤس کے صحافیوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کی کوشش کی گئی جسے سیکیورٹی حکام نے ناکام بنا دیا۔

 ٹرمپ کو اپنی صدارت اور انتخابی مہمات کے دوران مسلسل سیکیورٹی خطرات کا سامنا رہا ہے، جس کے باعث ان کی حفاظت کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے جاتے رہے ہیں۔

جولائی 2024ء: پنسلوانیا میں انتخابی جلسے کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ پر فائرنگ کی گئی، جس میں وہ زخمی ہوئے۔

 واقعہ بٹلر کاؤنٹی میں پیش آیا جہاں متعدد گولیاں چلیں اور سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو ہلاک کر دیا۔

بعد ازاں ایف بی آئی نے حملہ آور کی شناخت تھامس میتھیو کروکس کے طور پر کی۔

ستمبر 2024ء: فلوریڈا میں ٹرمپ کے گالف ریزورٹ کے قریب دوسری مبینہ قاتلانہ حملے کی کوشش کی گئی۔

سیکیورٹی اہلکاروں نے جھاڑیوں میں چھپے ایک مشتبہ شخص کو دیکھا جس کے بعد فائرنگ کی گئی، ملزم ریان ویسلے راؤتھ کو بعد میں گرفتار کر کے عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

ستمبر 2025ء: نیویارک میں رائیڈر کپ گالف ٹورنامنٹ کے دوران ایک آف ڈیوٹی پولیس اہلکار میلون اینگ جعلی طور پر ٹرمپ کی سیکیورٹی ٹیم میں شامل ہو گیا، واقعے کے بعد اہلکار کو معطل کر کے تحقیقات شروع کر دی گئیں۔

فروری 2026ء: فلوریڈا میں ٹرمپ کی رہائش گاہ مارالاگو کے سیکیورٹی حصار میں ایک شخص نے گاڑی ٹکرا دی، جس کے پاس اسلحہ بھی موجود تھا۔

سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو ہلاک کر دیا، اس کی شناخت آسٹن ٹکر مارٹن کے طور پر ہوئی، تاہم اس کے محرکات واضح نہیں ہو سکے۔

Share This

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *