ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پالیسی میں ایک اور یوٹرن، خود سے شروع کی گئی جنگ کے بعد امن معاہدے کی کوشش

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے معاملے پر ایک بار پھر اپنی حکمتِ عملی بدلی ہے، چند روز قبل جنگی بیانات اور سخت دھمکیوں کے بعد اب امریکا ایران کے ساتھ جنگ بندی اور نئے جوہری معاہدے کی جانب بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔

برطانوی اخبار دی گارڈیئن کے مطابق امریکا ایران اور پاکستانی ثالثوں کے درمیان ایک ابتدائی معاہدے پر بات چیت جاری ہے جس کے تحت 30 دن کی مذاکراتی مدت میں جنگ ختم کرنے، آبنائے ہرمز کھولنے، پابندیاں نرم کرنے اور ایران کے جوہری پروگرام پر نیا سمجھوتہ طے کیا جا سکتا ہے۔

دی گارڈیئن کا کہنا ہے کہ ایران نے امریکی تجاویز کو ’امریکی خواہشات‘ قرار دیتے ہوئے محتاط ردِعمل دیا ہے جبکہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کھولنے کا عندیہ ضرور دیا ہے مگر حتمی منظوری نہیں دی۔

مجوزہ معاہدے کے مطابق ایران کئی برس تک یورینیئم افزودگی محدود رکھے گا، عالمی جوہری ادارے کے معائنہ کار دوبارہ تعینات ہوں گے جبکہ بدلے میں ایرانی اثاثے بحال اور معاشی پابندیاں مرحلہ وار ختم کی جائیں گی۔

برطانوی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل اس ممکنہ معاہدے سے مطمئن نہیں کیونکہ اس میں ایران کے میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے اتحادی گروہوں کا ذکر شامل نہیں۔

دی گارڈیئن کی رپورٹ میں شائع کیے گئے تجزیے کے مطابق اگر یہ معاہدہ ہو بھی جاتا ہے تو بھی جنگ کے تباہ کن اثرات باقی رہیں گے کیوں کہ اب تک 5 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں 120 بچے بھی شامل ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق جنگ کے باعث دنیا بھر میں 32 ملین افراد غربت کا شکار ہو سکتے ہیں۔

برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے دور میں امریکا کی جانب سے شروع کی گئی اس جنگ کا تاریخ کی سب سے بے مقصد اور مہنگی جنگوں میں شمار ہو سکتا ہے۔

Share This

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *