وادی لیپا: گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول بنہ مولا طالبات کھلے آسمان تلے تعلیم پر مجبور، بنیادی سہولیات ناپید

وادی لیپا یونین کونسل بنہ مولا میں قائم گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول بنیادی سہولیات سے محرومی کی بدترین مثال بن چکا ہے، جہاں طالبات کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کاغذی طور پر ہائر سیکنڈری کا درجہ رکھنے والا یہ ادارہ عملی طور پر صرف تین کمروں تک محدود ہے جن میں ایک پرنسپل آفس، ایک اسٹاف روم اور محض ایک کلاس روم شامل ہے۔

اسکول میں نہ اضافی کلاس رومز موجود ہیں، نہ مناسب فرنیچر، نہ ہموار زمین اور نہ ہی سایہ دار جگہ کا کوئی انتظام۔ سب سے زیادہ تشویشناک صورتحال یہ ہے کہ طالبات کے لیے واش روم جیسی بنیادی سہولت بھی دستیاب نہیں، جو تعلیمی ماحول کے لیے نہایت افسوسناک اور قابلِ تشویش امر ہے۔

جگہ کی شدید قلت کے باعث طالبات نے اپنی مدد آپ کے تحت ٹین کی چادریں لگا کر پردے کا عارضی انتظام کیا، جو ریاستی تعلیمی نظام کی ناکامی کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ جب اسکول میں مکمل طور پر جگہ ختم ہو گئی تو طالبات نے قریبی بوائز پرائمری اسکول میں تعلیم حاصل کرنا شروع کی، جہاں کم از کم چھت اور واش رومز جیسی سہولیات موجود تھیں۔

تاہم حکومتی نااہلی کے باعث اب صورتحال مزید سنگین ہو چکی ہے اور طالبات کھلے آسمان تلے نالے کے کنارے پتھروں اور چٹائیوں پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ حیران کن امر یہ ہے کہ یہ اسکول آزاد کشمیر کے وزیر تعلیم کے حلقہ انتخاب میں واقع ہے، جس سے متعلقہ حکام کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات جنم لے رہے ہیں۔

طالبات کسی احتجاج یا نعرے بازی کے بجائے خاموشی سے صرف تعلیم حاصل کرنے کی خواہشمند ہیں، مگر سہولیات کی عدم دستیابی ان کے تعلیمی مستقبل کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔

Share This

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *