مظفرآباد ،آئی ٹی سی،9 مئی 2026.
ڈیسک۔
#آزاد کشمیر کے وزیر تعلیم سکولز دیوان علی چغتائی کی ممکنہ سیاسی وابستگیوں اور جماعتی تبدیلیوں کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے، جبکہ ان سے متعلق مبینہ سیکس سکینڈل ایک بار پھر سیاسی منظرنامے کا حصہ بن گیا ہے،مسلم لیگ ن کی اہم شخصیت نے اپنا نام نا ظاہر کرنے کی شرط پر آئی ٹی سی کو یہ بتایا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اور حلقہ لیپہ سے پارٹی ٹکٹ کے حصول کے امکانات پر جاری مشاورت آخری مراحل میں تھی، تاہم مبینہ سکینڈل کے دوبارہ زیر بحث آنے کے بعد معاملات تعطل کا شکار ہوئے۔
#دیوان علی چغتائی ماضی میں آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس، پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ رہ چکے ہیں اور حالیہ دنوں میں ان کی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کی اطلاعات گردش کر رہی تھیں،تاہم سیاسی مخالفین کی جانب سے ان پر عائد کیے جانے والے الزامات نے ان کی نئی سیاسی حکمت عملی کو متاثر کیا ہے۔
#وفاقی شخصیات اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی سطح پر دیوان علی چغتائی کی شمولیت پر غور کیا جا رہا تھا، مگر دیوان چغتائی کے حوالے سے سیکس سکینڈل کی خبر اعلیٰ قیادت تک پہنچنے بعد قیادت نے محتاط رویہ اختیار کیا،اس دوران ضلع جہلم ویلی میں مسلم لیگ (ن) کے بعض کارکنوں نے بھی ان کی ممکنہ شمولیت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنے تحفظات اعلیٰ قیادت تک پہنچائے،ادھر چوہدری محمد رشید کی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کو بھی ضلع جہلم ویلی کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کے بعد سیاسی مبصرین کے مطابق پارٹی کے اندر نئی صف بندی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
#تاحال دیوان علی چغتائی یا ان کے ترجمان کی جانب سے ان الزامات اور سیاسی صورتحال پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ صحافتی اصولوں کے مطابق ان کا مؤقف دستیاب ہونے پر خبر میں شامل کیا جا سکتا ہے،یاد رہے موجودہ وزیر تعلیم دیوان علی چغتائی پر ماضی قریب میں ہنی ٹریپ میں پھنس کر سیکس سکینڈل کی خبریں میڈیا پر وائرل ہوئیں تھیں،جبکہ وزیر تعلیم دیوان چغتائی کی جانب سے اس سکینڈل سے جڑی ویڈیوز کو منظر عام پر نا لانے کیلئے 25 لاکھ روپے ادا کرنے کا بھی انکشاف ہوا تھا،اور اسی سیکس سکینڈل میں دیگر سیاسی شخصیات کے ملوث ہونے کی خبریں بھی میڈیا کی زینت بنتی رہی ہیں۔