مڈل ایسٹ میں اگرچہ ہنوز جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں لیکن الحمدللہ پاکستان کی ثالثی میں کروائی گئی جنگ بندی ختم نہیں ہوئی، امریکا اور ایران میں اندرخانے بالواسطہ مذاکرات کا تسلسل نہیں ٹوٹا- اچھی خبر یہ ہے کہ اب وقت کے ساتھ ایرانی پاسداران کے شدت پسندانہ موقف میں بھی خاصی لچک آتی جا رہی ہے اگرچہ عوامی سطح پر یا کھلے بندوں وہ اپنی مضبوطی یا فتح دکھانے پر مصر ہیں۔ مجبوریاں ہر دو اطراف ہیں ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ جیسا ڈکٹیٹر ذہن، امریکی پریزیڈنٹ ہے جسکے عوام اپنے ملک کو جنگ میں دھکیلنا نہیں چاہتےاور ایک تازہ سروے کے مطابق صرف بتیس فیصد امریکی، ایران امریکا جنگ کے حامی رہ گئے ہیں، اوپر سے طاقتور امریکی جمہوری سسٹم کی تلوار ٹرمپ کے سر پر لٹک رہی ہے جیسے کہ امریکی آئین صدر کو اجازت نہیں دیتا کہ وہ امریکی کانگریس کی منظوری کے بغیرجنگ کو ساٹھ دن سے زیادہ طول دے سکے، کانگریس میں ڈیموکریٹس کے بالمقابل ریپبلکنز کو پہلے ہی کوئی ہیوی میجارٹی حاصل نہیں ہے اور پھر چند ماہ بعد جو مڈٹرم الیکشن آ رہے ہیں ایسے میں ریپبلکنز پراپنی کمزور میجارٹی بھی کھو دینے کا خوف غالب ہے یہی وجہ ہے کہ اس وقت ڈیموکریٹس ہی نہیں ریپبلکنز کی بھی مجبوری ہے کہ وہ اپنے پریزیڈنٹ پر یہ دباؤ ڈالیں کہ وہ جنگ کو طول دینے سے باز رہیں ۔اگرچہ پریزیڈنٹ ٹرمپ اس نوع کے ریفرنسز دیتے ہیں کہ ویتنام، افغانستان اور عراق میں امریکی جنگیں کتنے طویل دورانیے کی تھیں لیکن کانگریس کا موڈ دیکھتے ہوئے انہوں نے کہہ دیا ہے کہ ہم ایران کے ساتھ جنگ بندی کر چکے ہیں اور ہم اسے دوبارہ شروع نہیں کرنا چاہتے۔ ان دنوں ایران نے اپنے ہمسایہ امریکی اتحادی ملک متحدہ عرب امارات پر جو میزائلز اور ڈرونز داغے ہیں یا آبنائے ہرمز میں موجود امریکی نیوی کے قریب جو فائرنگ کی ہے اس پر بھی امریکانے یہ کہا ہے کہ ان حملوں کے باوجود ہم جنگ بندی کو برقرار رکھیں گے لیکن ایسے بیانات کے باوجود امریکی اتنے ملائم نہیں ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ انہوں نے اپنی خلیجی ناکہ بندی کے ذریعے ایران کی معاشی شاہ رگ کو دبوچ رکھا ہے اور ایران کا ناطقہ مزید بند کرنےکیلئے’’آپریشن پروجیکٹ فریڈم‘‘کا آغاز کرتے ہوئے امریکی گائیڈڈ میزائل شکن بحری جہازوں کو تدریجاً آگے بڑھا رہے ہیں، ایرانی رجیم کیلئے یہ صورتحال جنگ سے بھی زیادہ تباہ کن ثابت ہو رہی ہے ایک وقت تھا جب اسلامی پاسداران یہ سوچ رہے تھے کہ وہ آبنائے ہرمزسے گزرنے والے تیل بردار جہازوں سے ٹول ٹیکس کے نام پر بھاری رقوم وصول کرتے ہوئے اپنے جنگی نقصانات کا ازالہ کرلیں گے اور اب حالت یہ ہے کہ ان کی اپنی واحد معاشی امید یا سپلائی لائن بالفعل کٹی پڑی ہے، خارگ جزیرے پر محفوظ خام تیل کی لمٹ ختم ہونے کے بعد تیل کے کنووں کو رواں رکھنا ممکن نہیں رہے گا اس وقت حالت یہ ہے کہ ایران اپنے میزائلز یا ڈرونز سے امریکا پر براہ راست کوئی حملہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا، اسرائیل سے چھیڑ خانی کی تو ادھر سے بھی بھرپور جواب آئے گا، ایسے میں اسلامی پاسداران کے پاس یہی گنجائش بچتی ہے کہ وہ اپنے عرب ہمسایہ ممالک پر غصہ نکالیں جس سے امریکیوں پر اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کیلئے دباؤ ڈلوایا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی پاسداران نے چار اور پانچ مئی کو متحدہ عرب امارات پر ڈرونز کے علاوہ بیلسٹک اور کروز میزائلز بھی فائر کیے۔ اماراتی حکام اور قطری ذرائع کے مطابق ان ایرانی حملوں کے نتیجے میں فجیرہ پورٹ پر آئل کمپلیکس میں آگ بھڑک اٹھی، تین انڈین ورکرز زخمی بھی ہوئے اور امارات کی تیل کمپنی ایڈنوک کے آئل ٹینکر کوا سٹریٹ آف ہرمز میں نشانہ بنایا گیا،یہاں ساؤتھ کوریا کے بحری جہاز کو بھی آگ لگی۔ نتیجتاً امارات کو اپنے تعلیمی ادارے ایک مرتبہ پھر بند کرنے پڑے اور امارات کے ایئرپورٹس پر اترنے والی پروازوں کو دیگر خلیجی ممالک کی جانب موڑنا پڑا۔ محض تیس منٹس کی بندش سے سات سو اماراتی فلائٹس متاثر ہوئیں۔ سب سے بڑے دبئی ایئرپورٹ کو بند کرنا پڑا۔ ایرانی رجیم کا یہ بھی ایشو ہے کہ فارن آفس اور اسلامی پاسداران کی قیادتوں سے متضاد نوعیت کے بیانات آتے ہیں، کہیں نفی کی جاتی ہے کہیں قبول کیا جاتا ہے۔ بہرحال جنگ بندی کے باوجود یونائیٹڈ عرب امارات پر ایرانی حملوں کی پوری دنیا میں مذمت کی جا رہی ہے۔ امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، کینیڈا، جرمنی، فرانس، انڈیا، کویت، عمان، بحرین اور سعودی عرب سمیت پاکستان نے بھی عرب امارات پر ہونے والے ان افسوسناک اور بلاجواز حملوں کی مذمت کرتے ہوئے تہران پر زور دیا ہے کہ وہ مزید کشیدگی کو روکنے کیلئے مذاکرات کا راستہ اختیار کرے ،پاکستانی پرائم منسٹرنے کہا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان امارات کی قیادت ،حکومت اور عوام کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے،جنگ بندی کا احترام ناگزیر ہے، یونائیٹڈ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النیہان سے بات کرتے ہوئے امارات میں شہری تنصیبات پر کیے گئے حملوں کی مذمت کے ساتھ یہ یقین دہانی بھی کروائی گئی کہ مشکل گھڑی میں ہم اپنے اماراتی بہن بھائیوں کے ساتھ ہیں سعودی کراؤن پرنس محمد بن سلمان نے بھی اپنے تمام تر اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئےامارات کے صدر شیخ محمد بن زید النیہان کے ساتھ فون پراظہار یکجہتی کیا اور کہا آپ تنہا نہیں ہم آپ کے ساتھ ہیں، حالانکہ امارات نے اوپیک کو تازہ تازہ چھوڑا ہے اس کے باوجود سعودی کراؤن پرنس نے بلاجواز ایرانی حملوں کی نہ صرف نام لے کر کھلے الفاظ میں سخت مذمت کی بلکہ امارات کیلئے خیرسگالی اور یکجہتی کی پوری یقین دہانی کروائی، اپنے ایرانی بھائیوں سے تمام تر محبتوں کے باوجود اسلامی پاسداران کی خدمت میں گزارش ہے کہ آپ لوگوں کا سارا زور اپنے عرب خلیجی مسلمان ہمسائیوں پر ہی کیوں نکلتا ہے؟ اگر ٹرمپ نے آپ سے زیادتی کی ہے تو اپنے میزائلوں کا رخ امریکی بحری بیڑوں یا اسرائیلی فوجی اڈوں کی طرف کریں، دوڑ دوڑ کر ان عرب ہمسایہ ممالک پر ہی چڑھائی کیوں کرتے ہیں؟؟ جنہوں نے آپ پر حملے کیے ہیں ان کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیں۔
متحدہ عرب امارات پر حملے کیوں؟