آبنائے ہرمز کے گرد امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی شدت اختیار کر گئی اور جنگ بندی خطرے میں پڑ گئی۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے امریکی جہازوں پر حملہ کیا تو اسے سخت نتائج بھگتنا ہوں گے۔
امریکا کا کہنا ہے کہ اس کی فوج تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کر رہی ہے جبکہ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر اس کے کنٹرول میں ہے۔
امریکی حکام کے مطابق 7 ایرانی کشتیوں کو تباہ کیا گیا ہے تاہم ایران نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق جنوبی کوریا کے 1 جہاز پر حملہ اور آگ لگنے کی بھی تصدیق ہوئی ہے جبکہ مزید 2 جہازوں میں آگ لگنے کی اطلاعات ہیں۔
گزشتہ روز ایران نے متحدہ عرب امارات پر بھی میزائل اور ڈرون حملے کیے جس کے نتیجے میں فجیرہ کے آئل زون میں آگ لگ گئی اور 3 افراد زخمی ہوئے۔
متحدہ عرب امارات نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے جواب دینے کا حق محفوظ رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
ادھر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ امریکا میں پیٹرول کی قیمت 4.45 ڈالرز فی گیلن سے تجاوز کر گئی ہے جس سے مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے 50 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا ہے تاکہ علاقے میں سیکیورٹی یقینی بنائی جا سکے جبکہ کئی ممالک کے جہاز اب بھی پھنسے ہوئے ہیں۔