وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ: کم عمر مسیحی لڑکیوں کی مسلمان مردوں سے شادی جائز، صرف فوجداری سزا ہو سکتی ہے

وفاقی آئینی عدالت نے 18 سال سے کم عمر مسیحی لڑکیوں کی مسلمان مردوں سے شادی کے حوالے سے اہم فیصلہ جاری کیا ہے۔

عدالت نے کہا کہ شرعی طور پر مسلمان مرد اہل کتاب خواتین کے ساتھ نکاح کر سکتے ہیں۔ تاہم، Child Marriage Restraint Act کے تحت کم عمری کی شادی پر سزا دی جا سکتی ہے، لیکن نکاح کو منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ قانون میں کم عمری کی شادی کے لیے صرف فوجداری سزا کا تذکرہ موجود ہے۔ اگر لڑکی نے نکاح سے قبل اسلام قبول کر لیا ہے اور اس کا ڈیکلریشن موجود ہے، تو حبس بے جا کی درخواست میں عمر یا دستاویزات کی درستگی کا الگ جائزہ نہیں لیا جا سکتا۔

عدالت نے واضح کیا کہ آئینی تشریح کا حتمی فورم وفاقی آئینی عدالت ہے، اور سپریم کورٹ سمیت تمام عدالتیں اس کے احکام کی پابند ہیں۔ آئینی عدالت سپریم کورٹ کے وضع کردہ اصولوں پر عمل کرنے کی پابند نہیں، اور سپریم کورٹ کے وہ فیصلے جو آئین یا قانون سے متصادم ہوں، آئینی عدالت کے لیے لازم نہیں۔

عدالت نے کہا کہ لڑکی کے والد نے ایف آئی آر میں عمر 13 سے 14 سال بتائی، جبکہ دلائل میں 12 سال 9 ماہ ذکر کی گئی۔ والد کے بیانات میں تضاد موجود ہے، اور متعلقہ دستاویزات شک سے بالاتر نہیں۔ لڑکی نے مجسٹریٹ کے سامنے بیان دیا کہ اس نے اپنی مرضی سے، بغیر کسی دباؤ کے نکاح کیا۔

Share This

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *