سابق بھارتی لیگ اسپنر Laxman Sivaramakrishnan نے اپنی زندگی کے مشکل ترین دور پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ کم عمری میں لگنے والے بے بنیاد الزامات نے نہ صرف ان کے کرکٹ کیریئر کو نقصان پہنچایا بلکہ ذاتی زندگی بھی شدید متاثر ہوئی۔
ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ وہ محض 17 سال کی عمر میں بھارتی ٹیم کا حصہ بنے، مگر صرف دو سال بعد ہی انہیں ’شراب نوش‘ اور ’منشیات استعمال کرنے والا‘ قرار دے دیا گیا۔ ان کے مطابق یہ تمام الزامات جھوٹے تھے اور انہوں نے کبھی منشیات استعمال نہیں کیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے والدین نے شادی کے لیے اخبار میں اشتہار دیا، جس میں انہیں ایک ٹیسٹ کرکٹر اور فلیٹ کا مالک ظاہر کیا گیا۔ تاہم دو ہفتے بعد بھی ایک بھی رشتہ موصول نہ ہوا، کیونکہ ان کی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا جا چکا تھا۔
ٹیم سے اخراج
انہوں نے انکشاف کیا کہ 1987 Cricket World Cup کے بعد سلیکٹرز نے ان سے کہا کہ وہ میڈیا کو ٹیم سے نکالے جانے کی وجہ فٹنس مسائل بتائیں، لیکن انہوں نے جھوٹ بولنے سے انکار کر دیا، جس کے بعد انہیں ٹیم سے ڈراپ کر دیا گیا۔
ذہنی صحت کے مسائل
کرکٹ سے علیحدگی کے بعد وہ کمنٹری سے وابستہ رہے، لیکن COVID-19 pandemic کے دوران ان کی ذہنی صحت متاثر ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ شدید ڈپریشن کا شکار ہو گئے اور نیند کے لیے شراب کا سہارا لینا شروع کر دیا۔
سابق کرکٹر نے اعتراف کیا کہ بعض اوقات انہیں خودکشی جیسے خیالات بھی آتے تھے اور ذہنی دباؤ اس حد تک بڑھ گیا تھا کہ انہیں خوفناک مناظر دکھائی دیتے اور نیند مکمل طور پر ختم ہو گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ معاشرتی تنقید اور مسلسل الزامات نے ان کی ذہنی حالت کو مزید خراب کر دیا۔