میونسپل کمشنر Karachi Metropolitan Corporation نے سانحۂ گل پلازا کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کے سامنے اپنا تحریری جواب جمع کروا دیا ہے۔
جمع کرائے گئے جواب کے مطابق گل پلازا کی لیز کی تجدید کے معاملے پر صوبائی حکومت سے کسی مشاورت کا کوئی باقاعدہ ریکارڈ موجود نہیں۔ اس سلسلے میں ڈائریکٹر لینڈ کے ذریعے ریکارڈ کی جانچ پڑتال بھی کی گئی، تاہم مشاورت سے متعلق کوئی دستاویزی ثبوت سامنے نہیں آیا۔
جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ Sindh Local Government Ordinance 1979 کی دفعہ 45(5) کے تحت بھی ایسی کسی مشاورت کا تحریری ثبوت موجود نہیں۔ ریکارڈ کے مطابق یہ زمین 1936ء میں کراچی میونسپلٹی نے East India Tramways Company Limited کو 99 سالہ لیز پر دی تھی۔
میونسپل کمشنر کے مطابق People’s Local Council Land Rules 1975 کے تحت پرانی لیز اپنی اصل شرائط پر برقرار رہتی ہے، اور قانونی طریقہ کار کے مطابق اس میں مزید 99 سال کی توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔
جواب میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ لیز کی تجدید کو نئی الاٹمنٹ یا نئی گرانٹ نہیں سمجھا گیا بلکہ اسے پہلے سے موجود لیز کے تسلسل کے طور پر انجام دیا گیا۔ اسی بنیاد پر مؤقف اپنایا گیا کہ لیز کی تجدید کے لیے صوبائی حکومت سے علیحدہ مشاورت ضروری نہیں تھی۔