کیا ورلڈ کپ کے بعد سلمان علی آغا کی کپتانی ختم ہو جائے گی؟ محمد عامر نے بتا دیا

پاکستان کے سابق فاسٹ بولر محمد عامر جو ان دنوں جاری ٹی20 ورلڈ کپ کے دوران اپنی درست پیشگوئیوں کی وجہ سے سوشل میڈیا پر عامر بابا کہلائے جا رہے ہیں، انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹورنامنٹ کے بعد قومی ٹیم کے ٹی20 کپتان سلمان علی آغا کپتانی برقرار نہیں رکھ پائیں گے۔

یہ بیان پاکستان کی اہم سپر ایٹ میچ میں انگلینڈ کے خلاف شکست کے بعد سامنے آیا ہے، جس نے قومی ٹیم کی سیمی فائنل تک رسائی کی امیدوں کو تقریباً ختم کر دیا۔

 اس کامیابی کے ساتھ انگلینڈ نے سیمی فائنل میں جگہ پکی کر لی جبکہ پاکستان کو اب سری لنکا کے خلاف اپنا آخری میچ جیتنے کے ساتھ دیگر ٹیموں کے نتائج پر بھی انحصار کرنا ہو گا۔

ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے محمد عامر نے کہا کہ میرے خیال میں اس ورلڈ کپ کے بعد سلمان علی آغا ٹی20 کپتان نہیں رہیں گے، فی الحال مجھے کوئی اور موزوں امیدوار بھی نظر نہیں آتا اور میں سمجھتا ہوں کہ کئی کھلاڑیوں کے لیے یہ ٹی20 ورلڈ کپ آخری ثابت ہو گا۔

دوسری جانب سابق کپتان راشد لطیف نے بھی سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ بابر اعظم اب اس فارمیٹ کے کھلاڑی نہیں رہے، انہوں نے سوال اٹھایا کہ اسٹرائیک ریٹ پر تحفظات کے باعث 6 ماہ قبل ڈراپ کیے جانے کے بعد بابر کو دوبارہ کس بنیاد پر ٹیم میں شامل کیا گیا، ان کا اسٹرائیک ریٹ کب بہتر ہوا؟ آپ انہیں واپس کیوں لائے؟

انہوں نے کہا کہ جدید ٹی20 کرکٹ میں ایسے بیٹرز کی ضرورت ہے جو رفتار تیز کر سکیں اور رن ریٹ کو کنٹرول میں رکھیں، اگر کوئی کھلاڑی 20 سے 25 گیندیں کھیلنے کے باوجود رفتار نہ بڑھا سکے تو دوسرے اینڈ پر دباؤ بڑھ جاتا ہے اور نئے آنے والے بیٹرز کو خطرناک شاٹس کھیلنے پڑتے ہیں۔

سابق اوپنر احمد شہزاد نے بھی بیٹنگ حکمتِ عملی پر سوالات اٹھائے، ان کا کہنا ہے کہ میچ کے دوران سنگلز اور ڈبلز لینے کے مواقع ضائع کیے گئے۔

انہوں نے انگلینڈ کے لیگ اسپنر عادل راشد کی گوگلی پر بابر اعظم کے تقریباً آؤٹ ہونے کے لمحے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہی بہتری ہے؟

احمد شہزاد کے مطابق جب تک کھلاڑی اپنی کمزوریوں کو تسلیم کر کے جدید ٹی20 تقاضوں، پاور ہٹنگ اور سوچ سمجھ کر رسک لینے کے مطابق خود کو ڈھالیں گے نہیں، بہتری ممکن نہیں۔

Share This

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *