بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کا تل ابیب کے ہوائی اڈے پر ان کے اسرائیلی ہم منصب بنجمن نیتن یاہو اور ان کی اہلیہ سارہ نیتن یاہو نے استقبال کیا۔
دونوں رہنما ایک دوسرے سے انتہائی گرم جوشی سے ملے جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔
نیتن یاہو نے نریندر مودی سے گلے ملتے ہوئے کہا کہ آپ کو دیکھ کر اچھا لگا۔
ملاقات کے دوران روایتی لباس میں ملبوس بھارتی وزیرِ اعظم کے ویسکوٹ کی جیب میں زعفرانی رنگ کا رومال دیکھ کر نیتن یاہو نے کہا کہ دیکھیں میری اہلیہ نے بھی اسی رنگ کا لباس پہنا ہوا ہے۔
جس پر نریندر مودی نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہاں، یہ زعفرانی رنگ ہے۔
اس ملاقات کے دوران سارہ نیتن یاہو کا لباس خصوصی توجہ کا مرکز اس لیے بنا کیونکہ زعفرانی رنگ ہندوؤں کے لیے مذہبی لحاظ سے بہت اہمیت رکھتا ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم کی اہلیہ نے یہ لباس بطور ’ڈریس ڈپلومیسی‘ بھارت کے ساتھ ہم آہنگی کا اظہار کرنے کے لیے پہنا تھا۔
سارہ نیتن یاہو نے بھارتی وزیرِ اعظم کا استقبال کرتے ہوئے دوبارہ بھارت کا دورہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا اور بھارت کو ایک ’شاندار ملک‘ قرار دیا۔
’ڈریس ڈپلومیسی‘ صرف استقبال کرنے تک محدود نہیں رہی بلکہ نریندر مودی کے ساتھ ڈنر کے وقت خود اسرائیلی وزیرِ اعظم نے بھارت کا روایتی لباس پہنا۔
نیتن یاہو نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر اپنی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ہمارے مشترکہ ڈنر سے پہلے میں نے اپنے دوست بھارتی وزیرِ اعظم کو روایتی بھارتی لباس پہن کر حیران کر دیا۔