مظفرآباد ( 16 فروری2026ء) وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کے زیراہتمام اووسیز پاکستانیز فاونڈیشن کے تعاون سے منعقدہ اوورسیز کشمیریز کنونشن 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اوورسیز پاکستانی اور کشمیری ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں اور ہر سال اربوں ڈالر وطن بھیج کر ملکی معیشت کو مضبوط بنا رہے ہیں۔
اوورسیز کنونشن میں اتنے دور سے آنے پر آپ کا شکرگزار ہوں، اوورسیز کمیونٹی ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑی رہی ہے، زلزلہ زدگان کی بحالی سمیت ہر موقع پر ان کا کردار لائق تحسین رہا۔وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے اوورسیز کو پاکستان کے سفیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کوششوں سے مسئلہ کشمیر دنیا بھر میں اجاگر ہو رہا ہے۔
انجینئر امیرمقام نے آزاد کشمیر حکومت اور وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ریاست اور ملک کو اوورسیز کشمیریوں کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں منعقد کیا گیا اوورسیز کنونشن ایک مثبت اور قابل تعریف قدم تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان کی جانب سے آزاد کشمیر کے لیے دیے گئے ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے یہاں ایسے منصوبے بھی دیے جو عوام کی ڈیمانڈ میں بھی شامل نہیں تھے، جن میں پانچ دانش اسکول شامل ہیں جبکہ مستقبل میں دانش یونیورسٹی کے قیام کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ آزاد کشمیر میں جدید موٹر وے منصوبہ، خصوصاً مظفرآباد، میرپور اور مانسہرہ موٹر وے جلد کام شروع ہونے کی امید ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی مظالم پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ سات دہائیوں سیکشمیری عوام پر ظلم جاری ہے، دو لاکھ سے زائد گھر مسمار کیے جا چکے ہیں جبکہ لاکھوں کشمیری شہید اور زخمی ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کشمیری عوام کے جذبے کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ‘‘کشمیری اپنے شہداء کو پاکستانی پرچم میں دفناتے ہیں، یہ جذبہ دنیا کے لیے ایک مثال ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ معرکہ حق کے بعد مسئلہ کشمیر پوری دنیا میں ایک فلش پوائنٹ بن چکا ہے اور دس مئی کے بعد پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی لیڈر شپ کی بدولت دنیا بھر میں پاکستان کا وقار بلند ہوا ہے۔