سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک تاریخی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ پہلی بیوی کی تحریری اجازت اور ثالثی کونسل کی منظوری کے بغیر دوسری شادی کرنا مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کی صریح خلاف ورزی ہے، جس پر شوہر کے خلاف فوجداری اور دیوانی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
عدالتِ عظمیٰ نے اس حوالے سے پانچ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جو جسٹس مسرت ہلالی نے تحریر کیا۔ یہ فیصلہ نائلہ جاوید کیس میں سنایا گیا، جس میں سپریم کورٹ نے فیملی کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کے سابقہ فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے شوہر کو خاتون کو 12 لاکھ روپے حق مہر ادا کرنے کا حکم دیا۔
فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ تنسیخِ نکاح ایکٹ کے تحت اگر شوہر بیوی کی رضامندی کے بغیر دوسری شادی کرے تو خاتون کو نکاح ختم کرانے کا مکمل قانونی حق حاصل ہے۔ عدالت نے زور دیا کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس کے سیکشن 6 کے مطابق ثالثی کونسل کی اجازت کے بغیر دوسری شادی غیرقانونی ہے۔
سپریم کورٹ کے مطابق زیرِ سماعت کیس میں شوہر نے نہ پہلی بیوی سے تحریری اجازت لی اور نہ ہی ثالثی کونسل سے منظوری حاصل کی، جس کا اعتراف خود شوہر نے بھی کیا۔ دورانِ مقدمہ دوسری شادی کرنا بھی قانون شکنی کے مترادف قرار دیا گیا۔
عدالت نے ایک اہم قانونی نکتہ واضح کرتے ہوئے کہا کہ عدالتیں بیوی کا بیان ریکارڈ کیے بغیر طلاق کے دعوے کو خلع میں تبدیل نہیں کر سکتیں۔ اپنے سابقہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ خلع صرف خاتون کی واضح اور رضاکارانہ رضامندی سے ہی ممکن ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ نائلہ جاوید نے نکاح ختم کرنے کی درخواست ظلم اور قانونی بنیادوں پر دائر کی تھی، تاہم فیملی کورٹ نے ظلم کے الزامات پر فیصلہ دینے کے بجائے خلع کی بنیاد پر نکاح ختم کر دیا اور خاتون کو حق مہر چھوڑنے کا حکم دیا، حالانکہ خاتون نے خلع کا مطالبہ ہی نہیں کیا تھا۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ شوہر کی جانب سے نان نفقہ کی عدم ادائیگی، دورانِ جرح خاتون کی کردار کشی اور بغیر اجازت دوسری شادی جیسے عوامل قانونی طور پر ظلم کے زمرے میں آتے ہیں۔ ایسے حالات میں خاتون کا شوہر کے ساتھ رہنے سے انکار نافرمانی نہیں بلکہ اس کا جائز اور قانونی حق ہے۔
سپریم کورٹ نے فیصلے میں دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ پہلی بیوی کی اجازت اور ثالثی کونسل کی منظوری کے بغیر دوسری شادی کرنے والے شوہر کو قانونی نتائج کا سامنا کرنا ہوگا، اور ایسی صورت میں خاتون نکاح کے خاتمے کے ساتھ ساتھ اپنے تمام مالی حقوق حاصل کرنے کی حقدار ہوگی۔