امریکا کے 14 نکاتی امن تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں: ایران

ایران نے امریکا کے 14 نکاتی امن تجاویز پر ردعمل دے دیا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ امریکا کے 14 نکاتی امن تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی حکام اور وائٹ ہاؤس کے قریبی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے باقاعدہ خاتمے اور ایٹمی مذاکرات کے نئے فریم ورک پر اتفاق کے لیے ایک صفحے کی مفاہمتی یادداشت (MOU) تیار کر لی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق فریقین اس وقت معاہدے کے اتنے قریب ہیں جتنا جنگ کے آغاز سے اب تک کبھی نہیں رہے تھے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکا کو اگلے 48 گھنٹوں میں ایران کی جانب سے چند اہم نکات پر حتمی جواب کا انتظار ہے، اگرچہ ابھی کسی دستاویز پر دستخط نہیں ہوئے، لیکن صدر ٹرمپ کے قریبی مشیر جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف ایرانی حکام سے براہِ راست اور ثالثوں کے ذریعے مسلسل رابطے میں ہیں۔

ایگزیوز کے مطابق مجوزہ 14 نکاتی معاہدے میں درج ذیل نکات موجود ہیں:

جنگ کا خاتمہ: ایم او یو پر دستخط ہوتے ہی خطے میں جنگ کے خاتمے کا اعلان کر دیا جائے گا۔

30 دن کی مہلت: معاہدے کے بعد 30 دنوں کے اندر اسلام آباد یا جنیوا میں تفصیلی مذاکرات ہوں گے جن میں پابندیوں کے خاتمے اور ایٹمی پروگرام پر حتمی بحث ہو گی۔

آبنائے ہرمز: اس 30 روزہ مدت کے دوران ایران کی جانب سے جہاز رانی پر پابندیاں اور امریکا کا بحری محاصرہ بتدریج ختم کر دیا جائے گا۔

ایٹمی پروگرام پر پابندی: ایران 12 سے 15 سال تک یورینیئم کی افزودگی روکنے پر غور کر رہا ہے، جبکہ امریکا 20 سال کا مطالبہ کر رہا ہے۔

Share This

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *