ایران پر ٹرمپ سے نجی گفتگو منظر عام پر آنے سے شاہ چارلس نازک صورتحال سے دوچار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہوئی نجی گفتگو منظرِ عام پر آنے سے شاہ چارلس نازک اور پیچیدہ صورتِ حال سے دوچار ہو گئے۔

امریکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس میں شاہ چارلس اور ملکہ کمیلا کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے کے دوران ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ شاہ چارلس ایران کے جوہری ہتھیاروں کے خلاف امریکی مؤقف سے متفق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ برطانوی شاہ چارلس متفق ہیں کہ ایران جوہری بم نہیں رکھ سکتا، امریکا نے ایران کو فوجی شکست دی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بطور آئینی بادشاہ کنگ چارلس سیاسی معاملات میں غیر جانبدار رہنے کے پابند ہیں اور ان کا کردار صرف برطانیہ کی نمائندگی تک محدود ہوتا ہے، نہ کہ حکومتی پالیسی پر اظہارِ رائے دینا۔

ایسے میں خارجہ پالیسی سے متعلق شاہ چارلس کا مؤقف سامنے آنا انہیں مشکل صورتِ حال میں ڈال رہا ہے۔

شاہی روایات کے مطابق بادشاہ کے ساتھ ہونے والی نجی گفتگو کو عام نہیں کیا جاتا۔

اس معاملے پر برطانوی خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ شاہ چارلس برطانوی حکومت کے ترجمان نہیں۔

ادھر واشنگٹن میں اس معاملے پر برطانوی سفارت خانے نے بکنگھم پیلس سے رجوع کرنے کو کہا ہے جبکہ اب تک بکنگھم پیلس نے فوری طور پر کوئی ردِعمل نہیں دیا۔

Share This

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *