سیکیورٹی فورسز نے بھرپور جوابی کارروائی میں 3 افغانی بٹالین اور سیکٹر ہیڈ کوارٹر مکمل تباہ اور اسلحہ ڈپو کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا، مؤثر جوابی کارروائی میں 80 سے زائد ٹینک، توپ خانہ اور بکتر بند تباہ کر دیں، وطن کا دفاع کرتے ہوئے پاک فوج کے 2 جوان شہید اور 3 زخمی ہوئے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے افغان طالبان فورسز کو آرٹلری اور کواڈ کاپٹر کے ذریعے مؤثر انداز میں نشانہ بنایا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کی فیصلہ کن کارروائی میں افغان طالبان کی متعدد اہم پوسٹس کو مکمل تباہ کرنے کے بعد افغان طالبان نے متعدد بار پوسٹوں پر سفید جھنڈا بھی لہرایا۔
قندھار میں بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، ایمونینشن ڈپو، لاجسٹکس بیس تباہ
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ملکی سلامتی اور خود مختاری یقینی بناتے ہوئے افغان طالبان کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جا رہا ہے، پاک فوج نے افغانستان کے صوبے قندھار میں افغان طالبان کے بریگیڈ ہیڈکوارٹرز کو کامیابی سےتباہ کر دیا ہے، اس کے علاوہ قندھار میں افغان طالبان کے ایمونینشن ڈپو اور لاجسٹکس بیس بھی تباہ کر دیے گئے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فضائیہ کے حملے جاری ہیں، ننگرہار میں بڑا ایمونیشن ڈیپو تباہ کر دیا گیا، ڈرونز کے ذریعے بھی چن چن کر افغان طالبان رجیم کی پوسٹیں ہدف بنائی گئی ہیں۔
سیکیورٹی فورسز نے انگور اڈہ میں ایک اور افغان پوسٹ کو تباہ کر دیا، جبکہ افغان صوبے پکتیکا کی پوسٹ پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج افغان طالبان کے ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنا رہی ہے، افغان طالبان پوسٹس چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔
جنوبی وزیرستان میں پاک فوج نے کارروائی کر کے افغان طالبان کی داؤد پوسٹ تباہ کر دی، افغان طالبان کی جانب سے کواڈ کاپٹر کے ذریعے پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر حملے کی تمام کوششیں ناکام بنا دی گئیں، پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے تمام کواڈ کاپٹرز گرا دیے گئے۔
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ چترال سیکٹر پر افغان طالبان کی چیک پوسٹ کو پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا، افغان طالبان نے پاک افغان سرحد کے مختلف مقامات پر فائرنگ کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے جواب میں ناؤگئی سیکٹر، باجوڑ، تیراہ اور خیبر میں بھرپور جواب دیا ہے، پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے ضلع مہمند اور ارندو سیکٹر چترال میں بھی بھرپور جواب دیا ہے، فورسز نے باجوڑ میں افغان طالبان کی 2 چوکیاں تباہ کر دیں۔
پاک افغان سرحد پر مہمند میں گرسال سیکٹر میں پاک فوج کی بھرپور جوابی کارروائی جاری ہے، گرسال سیکٹر میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے افغان طالبان کی چیک پوسٹیں تباہ کر دیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کسی بھی قسم کی جارحیت کے خلاف سخت اور فوری جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں کے ذریعے گولہ باری جاری ہے، ڈرونز کے ذریعے بھی چن چن کر افغان طالبان رجیم کی پوسٹوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کے میڈیا اور سوشل میڈیا پر جھوٹے دعوے اور فیک ویڈیوز کی بھرمار ہے۔
پاک فضائیہ نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے کابل اور پکتیا میں اہم ملٹری تنصیبات تباہ کر دی ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فضائی کارروائیوں کے دوران کابل میں 2 بریگیڈ ہیڈکوارٹر تباہ ہو گئے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پکتیا میں بھی کور ہیڈ کوارٹر کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے افغان پوسٹوں پر کنٹرول حاصل کیا اور وہاں قومی پرچم لہرا دیا۔
پاک فوج نے واضح پیغام دیا کہ سرحدی خلاف ورزی یا کسی بھی اشتعال انگیزی کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، پاک افغان سرحد پر کھڑے پاک فوج کے جوان مادرِ وطن کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہیں۔
باجوڑ بارڈر پر کھڑے پاک فوج کے جوان کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کو اندازہ نہیں کہ انہوں نے کس قوم کو للکارا ہے، اگر کوئی بھارت کے کہنے پر ہم سے پنگا لے گا تو اسے یہ پنگا بہت مہنگا پڑے گا۔
افغان طالبان کی اسلام دشمنی بھی کھل کر سامنے آ گئی، باجوڑ میں مسجد کو بھی نشانہ بنا ڈالا، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی شیلنگ سے مسجد کی چھت اور دیگر حصے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ پاک فوج افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا بھرپور طریقے سے منہ توڑ جواب دے رہی ہے، دشمن اپنی چوکیاں چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
پاک فوج کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے کے بعد افغان طالبان نے سول آبادی پر حملے شروع کر دیے، جن میں 5 افراد زخمی ہو گئے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے فائر کیے گئے گولے باجوڑ کے علاقے لغڑئی اور گرد و نواح میں گرے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ باجوڑ میں مارٹر گولے گرنے سے 5 افراد زخمی ہو گئے جن میں 3 خواتین بھی شامل ہیں۔
اسپتال ذرائع کے مطابق زخمی افراد کو خار اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان امن اور علاقائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا ہے کہ امن کو کمزوری سمجھنے والے مضبوط جواب کے لیے تیار رہیں، کوئی بھی دشمن ہماری پہنچ سے باہر نہیں ہو گا۔
آصف علی زرداری نے یہ بھی کہا کہ قومی سلامتی پر کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مسلح افواج ملک کی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں، افواج کا عزم ہے کہ ملک کے امن اور تحفظ پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔
اپنے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ افواج جارحانہ عزائم کو خاک میں ملانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں افواج جذبے کے ساتھ فرائض انجام دے رہی ہے۔
وزیرِاعظم نے یہ بھی کہا کہ وطنِ عزیز کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، دشمن کو ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے افغان طالبان سے مخاطب ہو کر کہا ہے کہ اب ہماری تمھاری کھلی جنگ، اب دما دم مست قلندر ہو گا، پاکستان کی فوج سمندر پار سے نہیں آئی، ہم تمہارے ہمسائے ہیں، تمہاری اوقات جانتے ہیں۔
اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا ہے کہ صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جا رہا ہے، قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ افغان طالبان نے حملہ کر کے بھیانک غلطی کی، افغان طالبان کی جارحیت پر پاک فوج نے منہ توڑ جواب دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی جارحیت ناقابلِ برداشت ہے، انہیں سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔