پاکستانی ٹیلنٹ کا عالمی سطح پر اعتراف: تابش زیدی کی تیار کردہ ’ڈیجیٹل فیشن‘ تخلیق دبئی کے ’میوزیم آف دی فیوچر‘ کی مرکزی نمائش میں شامل

دبئی، متحدہ عرب امارات – فروری 2026 – مشرقِ وسطیٰ کے ممتاز تخلیقی میلے “NVIDIA Studio Nights 6” میں ایک پاکستانی ڈیجیٹل آرٹسٹ کی تیار کردہ انقلابی “phygital” (طبعی و ڈیجیٹل) تخلیق فائنلسٹ کے طور پر نمایاں رہی۔ یہ تقریب 13 فروری 2026 کو دبئی کے عالمی شہرت یافتہ ‘میوزیم آف دی فیوچر’ میں منعقد ہوئی، جس میں خطے کے سب سے زیادہ متاثر کن ڈیجیٹل ٹیلنٹ کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

این ویڈیا اسٹوڈیو نائٹس 6 نے متحدہ عرب امارات اور اس سے باہر کے تخلیق کاروں کو لائیو ڈیموز اور ایک مسابقتی نمائش کے لیے اکٹھا کیا، جس کی پشت پناہی این ویڈیا اسٹوڈیو اور آر ٹی ایکس (RTX) جی پی یوز کر رہے تھے۔

ٹیکنالوجی: این ویڈیا آر ٹی ایکس کی بدولت 8K درستگی

اس مقابلے میں “لمحے: دی ایم او ٹی ایف ایڈیشن” (Lamhey: The MOTF Edition) نامی پروجیکٹ کو ڈیجیٹل فیشن ڈیزائن کے انتہائی سخت مقابلے میں شارٹ لسٹ کیا گیا۔ اسے تابش بابر زیدی نے ڈیزائن کیا تھا، جو آکسفورڈ سے سند یافتہ اے آئی (AI) آرکیٹیکٹ اور ‘عریبین اے آئی’ کے بانی ہیں۔

زیدی نے مخصوص اے آئی ٹولز اور اعلیٰ کارکردگی والے این ویڈیا آر ٹی ایکس جی پی یوز کا استعمال کرتے ہوئے ایک معمولی ریزولوشن والے تصور کو ہائپر ریئلسٹک تھری ڈی ماڈل میں تبدیل کیا، جس میں 8K معیار کی تفصیلات شامل تھیں۔ لباس کا ہر دھاگا، بناوٹ اور شکن، ایچ ڈی کوالٹی کے ساتھ پیش کی گئی۔

(ڈیجیٹل ڈیزائن این ویڈیا آر ٹی ایکس جی پی یو استعمال کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت سے تیار کیا گیا ہے)

انسانی محنت اور اے آئی کا سنگم: ایک ہفتے میں تیار کردہ دستی شاہکار

تقریب کے دوران تابش زیدی اور ماڈل ایک دلکش دستی تیار کردہ چاندی کے گاؤن کی نمائش کرتے ہوئے نمودار ہوئے۔ یہ لباس، جو اپنے ڈیجیٹل جڑواں (digital twin) سے سو فیصد مطابقت رکھتا تھا، مکمل طور پر ہاتھ سے سلا ہوا تھا اور اسے پاکستان میں ‘لمحے فیشن ہاؤس’lamhey.com.pk’ کے باصلاحیت کاریگروں نے ریکارڈ سات دنوں میں مکمل کیا۔

انسپریشن: فولاد اور ریشم میں پروئی ہوئی شاعری
زیدی نے اس کے پسِ پردہ کہانی بیان کرتے ہوئے کہا:
“میری انسپریشن کا منبع وہ جگہ ہے جسے میں پچھلے 20 سالوں سے اپنا گھر کہتا ہوں: یعنی دبئی۔ ہم اس وقت کرہِ ارض کی خوبصورت ترین عمارت کے اندر کھڑے ہیں۔ میرے لیے یہ عمارت محض فولاد اور شیشے کا مجموعہ نہیں ہے—یہ وہ مقام ہے جہاں عزت مآب شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کی شاعری خطاطی کی صورت میں ڈھلی ہوئی ہے۔ وہی شاعری میرے تخیل کا نقشِ اول بنی۔”

وہ مزید کہتے ہیں: “میں اس کا سب سے زیادہ کریڈٹ اپنی ٹیم کو دیتا ہوں، خاص طور پر اپنی بہن عنبرین زیدی کو، جو پاکستان میں ‘لمحے فیشن ہاؤس’ کی سی ای او ہیں۔ وہ اس تصور کو مادی دنیا سے جوڑنے والا پل ثابت ہوئیں۔”

تابش زیدی کے بارے میں
تابش زیدی Jeem & Co.، Amrah.ai اور Arabian AI Lab کے بانی ہیں، جو متحدہ عرب امارات میں مقیم اے آئی مصنوعات تیار کرنے والے مقامی اسٹارٹ اپس ہیں۔ تابش کا کام جدید مصنوعی ذہانت اور بھرپور ثقافتی ورثے کے درمیان خلیج کو ختم کرنے پر مرکوز ہے۔ اس سے قبل انہوں نے شارجہ انٹرنیشنل بک فیئر 2025 میں لائیو اے آئی ترجمانی کا مظاہرہ بھی کیا تھا۔

میوزیم آف دی فیوچر میں یہ لمحہ اس بات کی ایک طاقتور مثال ہے کہ کس طرح اے آئی روایتی کاریگروں کے لیے بہترین معاون ثابت ہو سکتی ہے—جو ورثے اور احساس کو مددِ نظر رکھتے ہوئے نئے بین الاقوامی مواقع کی راہیں کھول رہی ہے

Share This

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *