گورنمنٹ گرلز ہائی سکول نوکوٹ تعلیمی بحران کا شکار پندرہ سال سے درہم برہم نظام، اہم تدریسی آسامیاں خالی، طالبات کا مستقبل داؤ پر لگنے لگا

وادی لیپہ ( طاہر خواجہ)گورنمنٹ گرلز ہائی سکول نوکوٹ گزشتہ پندرہ برس سے شدید تعلیمی بدانتظامی اور محکمانہ غفلت کا شکار ہے۔ سکول میں اہم مضامین کے اساتذہ کی عدم موجودگی کے باعث طالبات کا تعلیمی مستقبل سنگین خطرات سے دوچار ہو چکا ہے، جبکہ سیاسی و سماجی شخصیات کی خاموشی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق بیالوجی کی آسامی گزشتہ ایک سال سے مکمل طور پر خالی ہے، جبکہ جنرل لائن میں ریٹائرمنٹ کے بعد 15 جنوری سے تاحال کوئی تقرری عمل میں نہیں لائی گئی۔ اسی طرح کمپیوٹر سائنس کا مضمون 2019 سے صرف کاغذوں تک محدود ہے اور عملی طور پر کوئی استاد موجود نہیں۔ مزید برآں، ایلیمنٹری سائنس کی معلمہ آج تک سکول میں رپورٹ نہیں کر سکیں۔افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایک نیک نیت، فعال اور علم دوست پرنسپل بشیر عالم مغل اپنی تمام تر قائدانہ صلاحیتوں اور مخلصانہ کوششوں کے باوجود محکمہ تعلیم کے بااختیار ذمہ داران کی عدم توجہ کے باعث بے بس نظر آ رہے ہیں۔ امتحانات سر پر ہیں مگر بیالوجی، کمپیوٹر سائنس اور جنرل لائن جیسے اہم مضامین عملاً لاوارث ہو چکے ہیں۔

اساتذہ کی مسلسل غیر حاضری اور خالی آسامیوں کے خلاف طالبات احتجاج پر مجبور ہو چکی ہیں جبکہ والدین نے بھی بچوں کے مستقبل کے تحفظ کے لیے احتجاج میں شمولیت پر غور شروع کر دیا ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ اگر اساتذہ نے ڈیوٹی ہی انجام نہیں دینی تو اس مقدس پیشے میں آنے کا مقصد کیا ہے؟

متاثرہ والدین اور طالبات نے وزیر تعلیم دیوان علی خان چغتائی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس سنگین صورتحال کا نوٹس لیں، ذمہ داران کا تعین کریں اور سکول میں فوری طور پر اساتذہ کی تعیناتی یقینی بنائیں تاکہ بیٹیوں کا مستقبل تباہی سے بچایا جا سکے۔

سوال یہ ہے کہ جب قوم کی بیٹیوں کا مستقبل خطرے میں ہے تو ہمارے منتخب نمائندے اور بااثر شخصیات کیوں خاموش ہیں؟

Share This

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *